آج مورخه 13نومبر بروز سوموار خانواده قاسمیه کے مایه ناز سپوت ، مولانا قاسم صاحب نانوتوی ، بانی دارالعلوم دیوبند کے پرپوتے ، حافظ احمد صاحب سابق مہتمم دارالعلومدیوبند کے پوتے اور حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب کے صاحبزاده خطیب الاسلام مولانا سالم صاحب قاسمی کے چهوٹے بهیائ دارالعلوم وقف دیوبند کے شیخ الحدیث و صدالمدرسین حضرت مولانا
محمد اسلم صاحب
بن قاری محمد طیب صاحب
بن حافظ احمد صاحب
بن مولانا قاسم صاحب نانوتوی رحمهم الله اس دار فانی سے کوچ کرگئے انا لله انا الیه راجعون ،
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزه نورسته اس گهر کی نگہبانی کرے
حضرت مولانا کیا رخصت ہوئے ؟ که دارالعلوم وقف کا ایک عہد رخصت ہوا
مبدافیاض سے آپ کو بے شمار خوبیوں سے نوازا گیا
دینی و دنیوی دونوں علوم سے وافر حصه آپ کو ملاتها آپ بیک وقت ایک بے نظیر خطیب حاضر باش مدرس کامیاب متکلم اور بلندپایه محدث تهے
دارالعلوم وقف کی آپ شان تهے جب آپ درس کیلئے آتے تو شاید ہی کوئ محروم القسمت طالب علم ہوتا جو جان بوجه کر بغیر کسی عذر کے آپ کا درس چهوڑتا
مجهے کئ بار آپ کےدرس میں حاضری کی سعادت ملی ہے
بخاری شریف کے احادیث کی تشریح
فقه بخاری
تعلیقات بخاری
ترجمه الباب سے حدیث کا انطباق اتنی سہل انداز سے بیان کردیتے که بڑے بڑے جبال علم بهی اتنی آسانی سے نہیں کرسکتے
دوران درس ایک محدثانه وقار آپ میں صاف نظر آتا تها
ایک متکلم اسلام اور ایک متبحر عالم دین کے ضروری اوصاف میں سے یه بات ہے که وه منقولات کو معقولاتی انداز کے ساته محسوساتکی شکل میں بیان کرسکے
حضرت کے اندر یه خوبی بدرجه اتم تهی
جب آپ درس میں ہوتے تو اپنے پیشرو شیخ الحدیث کی طرح باتوں میں ٹههرائو ، دلائل کی قوت ، اسلوب ساده ہوتا تها جس سے معمولی استعداد والاطالب علم بهی بخوبی سبق سمجه لیتا
جب وعظ و خطاب کے مسند پر جلوه افروز ہوتے تو حضرت حکیم الاسلام کی یاد تازه ہو جاتی تهی
مجهے یاد آتا ہے که دارالعلوم وقف میں حضرت قاری طیب صاحب نورالله مرقده پر عالمی سمینار،، بعنوان حکیم الاسلام سمینار منعقد ہوا گرچه اس سیمینار کے روح رواں آپ کے بڑے بهائ خطیب الاسلام حضرت مولانا سالم صاحب دامت برکاتہم تهے
لیکن اجلاس عام میں سب سے موثر اور دل پذیر خطاب آپ کا ہی ہوا تها
جب آپ تقریر کیلئے اسٹیج پر آئے اور تقریر شروع کی تو لاکهوں کا مجمع لمحوں میں اس طرح خاموش ہوکر ہمه تن گوش ہوگیا که گویا یوں معلوم ہورہاتها که انکے سروں پر پرنده بیٹه گیا ہو
لوگوں کی آنکهیں اشکبار ہورہی تهی
دوران خطاب ہی لالو یادو جو اس وقت وزیر ریل تهے اسٹیج پر آگئے تهوڑی دیر کیلئے لوگ اٹهکر لالو کا دیکهنا چاه رہے تهے لیکن حضرت کی تقریر نے اتنا موقع ہی نہیں دیا که لوگ لالویادو کی طرف متوجه ہوں آپ بغیر رکے برابر تقریر کرتے رہے اور مجمع سر دهنتا رہا
اسی دن میں نے انکی پہلی اور اپنے اعتبار سے آخری عوامی تقریر سنی تهی جو واقعی ازدل خیزد بردل ریزد کی مصداق تهی
انقلاب دارالعلوم تک انکی حیثیت ایک صاحبزادے یا ایک شعبه کے منتظم سے زیاده نہیں تهی
لیکن انقلاب دارالعلوم کے بعد جس طرح ان میں علمی عملی فکری خطابی اور تدریسی صلاحیت پروان چڑهی که اچهے اچهے تجزیه نگار بهی قدرت کی اس کاریگری کا تحلیل و تجزیه نہیں کرسکتے
تدریسی اور تنظیمی ذمه داریوں اور دارالعلوم وقف کی طفولیت اور اسکی بے سروسامانی نے انکو ایسا گوہر آبدار بنادیا که رہتی دنیا تک علمی حلقوں میں انکا نام گونجتا رہے گا
سچ کہا کسی نے که
موجوں کی تپش کیاہے؟ فقط ذوق طلب ہے
پنہاں جو صدف میں ہے وه دولت ہے خداداد
حضرت کے اندر یه خوبی بدرجه اتم تهی
جب آپ درس میں ہوتے تو اپنے پیشرو شیخ الحدیث کی طرح باتوں میں ٹههرائو ، دلائل کی قوت ، اسلوب ساده ہوتا تها جس سے معمولی استعداد والاطالب علم بهی بخوبی سبق سمجه لیتا
جب وعظ و خطاب کے مسند پر جلوه افروز ہوتے تو حضرت حکیم الاسلام کی یاد تازه ہو جاتی تهی
مجهے یاد آتا ہے که دارالعلوم وقف میں حضرت قاری طیب صاحب نورالله مرقده پر عالمی سمینار،، بعنوان حکیم الاسلام سمینار منعقد ہوا گرچه اس سیمینار کے روح رواں آپ کے بڑے بهائ خطیب الاسلام حضرت مولانا سالم صاحب دامت برکاتہم تهے
لیکن اجلاس عام میں سب سے موثر اور دل پذیر خطاب آپ کا ہی ہوا تها
جب آپ تقریر کیلئے اسٹیج پر آئے اور تقریر شروع کی تو لاکهوں کا مجمع لمحوں میں اس طرح خاموش ہوکر ہمه تن گوش ہوگیا که گویا یوں معلوم ہورہاتها که انکے سروں پر پرنده بیٹه گیا ہو
لوگوں کی آنکهیں اشکبار ہورہی تهی
دوران خطاب ہی لالو یادو جو اس وقت وزیر ریل تهے اسٹیج پر آگئے تهوڑی دیر کیلئے لوگ اٹهکر لالو کا دیکهنا چاه رہے تهے لیکن حضرت کی تقریر نے اتنا موقع ہی نہیں دیا که لوگ لالویادو کی طرف متوجه ہوں آپ بغیر رکے برابر تقریر کرتے رہے اور مجمع سر دهنتا رہا
اسی دن میں نے انکی پہلی اور اپنے اعتبار سے آخری عوامی تقریر سنی تهی جو واقعی ازدل خیزد بردل ریزد کی مصداق تهی
انقلاب دارالعلوم تک انکی حیثیت ایک صاحبزادے یا ایک شعبه کے منتظم سے زیاده نہیں تهی
لیکن انقلاب دارالعلوم کے بعد جس طرح ان میں علمی عملی فکری خطابی اور تدریسی صلاحیت پروان چڑهی که اچهے اچهے تجزیه نگار بهی قدرت کی اس کاریگری کا تحلیل و تجزیه نہیں کرسکتے
تدریسی اور تنظیمی ذمه داریوں اور دارالعلوم وقف کی طفولیت اور اسکی بے سروسامانی نے انکو ایسا گوہر آبدار بنادیا که رہتی دنیا تک علمی حلقوں میں انکا نام گونجتا رہے گا
سچ کہا کسی نے که
موجوں کی تپش کیاہے؟ فقط ذوق طلب ہے
پنہاں جو صدف میں ہے وه دولت ہے خداداد
