گجرات انتخاب: مقابله تو دل ناتواں نے خوب کیا


آج دوریاستوں (ہماچل اور گجرات میں) ہوئے انتخاب کی گنتی مکمل ہوگئی۔ دونوں جگه بھاجپا نے میدان مارلیا۔ ہماچل پردیش میں تو وہاں کی روایت کے مطابق بھاجپا نے فتح پائی، چونکه وہاں ایک ٹرم کانگریس تو دوسرا ٹرم بھاجپا کو ملتا رہا ہے ۔ لیکن آج پورے ہندوستانیوں کی نگاه گجرات پر ٹکی ہوئی تھی اور ملک کا سیکولر طبقه وہاں سے نئی صبح کے طلوع ہونے کا منتظر تھا لیکن جیسے جیسے دن گزرتا گیا ویسے ویسے گجرات پر کیسریا جھنڈا بلند ہوتا گیا اور بالآخر بھاجپا وہاں اپنا اقتدار بچانے میں ایک بار پھر کامیاب ہوئی اور کانگریس کی جھولی میں دواور شکست شامل ہوگئی۔ گجرات انتخاب پر نگاه رکھنے والے اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں که وہاں کون کون سا فیکٹر کام کرتا ہے۔ ایک پارٹی کی ریلیوں میں کرسیاں خالی ہونے کے باوجود بھی وه پارٹی اپنی صاف شکست کو فتح میں بدل لیتی ہے اور وہیں دوسری پارٹی اپنے سامنے آتی ہوئی فتح کو گنوا لیتی ہے۔ راہل گاندھی اور هاردک، جگنیش اور الپیش کی ریلیوں میں امڈتی بھیڑ اس بات کے صاف اشارے دے رہی تھی که گجرات میں کمل مرجھانے والا ہے لیکن آخر آخر میں کمل کھل ہی گیا۔ اس شکست و فتح کا تجزیه سیاسی ماہرین کرتے رہیں گے، لیکن اتنا تو سب کو ماننا پڑے گا که کانگریس اور دیگر سیکولر کہی جانے والی پارٹیوں میں بھیڑ کو ووٹ میں کیش کرانے کی صلاحیت اب بھی بھاجپا سے کم ہے۔ 
نتیش کمار کا ہنر کام آیا 
بہار کا الیکشن سب کو یاد ہوگا جب وزیراعظم کی ایک تنقید کو نتیش کمار نے گالی قرار دے کر اسےبہاریوں کی توہین کا معامله بنادیا اور اسے انتخاب کا سب سے بڑا مدعا بنالیا اور اپنی طویل سیاسی تجربے کو کام میں لاتے ہوئے بہاریوں کے غیرت کو بھڑکا کر ووٹ کیش کرالیا تھا اور بھاجپا کو شکست فاش دی تھی۔ جو غلطی مودی نے بہار انتخاب کے موقع پر کی تھی، وہی غلطی کانگریس نے گجرات انتخاب میں کی اور جس طرح نتیش جی نے اسے انتخابی مدعا بنانے میں تاخیر نہیں کی اسی طرح گجرات میں مسٹر مودی نے کوئی چوک نہیں کی۔ منی شنکر ایر کے ایک بودے بیان کو مودی نے گجراتیوں کے سوابهیمان کا معامله بنادیا اور تمام گجراتیوں کے جذبات کو برانگیخته کرتے ہوئے ایک بار پھر میدان مارلیا، لیکن اس الیکشن میں راہل گاندھی کی محنت اور ان کے باوقار انداز خطاب اور مدعے پر گفتگو کے سب تجزیه نگار ضرور قائل ہیں۔ واقعی گاندھی خاندان کے اس سپوت نے یه ثابت کردیا که اب بھی بھاجپا کو ہرانے کی صلاحیت صرف اور صرف کانگریس کے اندر ہے۔ گجرات کا یه نتیجه کئی معنوں میں اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے بالیقین کانگریس کی نوجوان قیادت سبق لے گی اور جنتا کی بھیڑ کو ووٹ میں تبدیل کرنے کی صلاحیت پیدا کرے گی۔ جس دن کانگریس اپنے اندر یه خوبی پیدا کرلے گی اسی دن سے کامیابی قدم چومنے لگے گی۔ 
خیر جہاں ایک طرف پوری دلی کھڑی تھی، جهاں ایک طرف آرایس ایس کی پوری فوج تھی، جہاں ایک طرف سنگھی میڈیا کی پوری حمایت تھی، جہاں ایک طرف آرایس ایس کی ذیلی تنظیمیں گھر گھر چنائو پرچار کررہی تھیں، جہاں ایک طرف مذهبی جذبات بھڑکائے جارہے تھے، جہاں ایک طرف ہندو بنام مسلم الیکشن بنایا جارہا تھا، جہاں ایک طرف سام دام ڈنڈ بھید سب کچھ تھا، جهاں ایک پارٹی ہرطرح کے چناوی ہتھیار سے لیس تھی، جہاں ایک طرف دولت لی ریل پیل تھی، وہاں اکیلے راہل گاندھی کا اپنے نئے ساتھیوں کے ساتھ مقابله کرنا اور زبردست ٹکر دینا کیا یه کہنے کیلئے کافی نہیں که مقابله تو دل ناتواں نے خوب کیا۔ 
قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند 
دو چار ہاتھ جب لب بام ره گیا