اپنی بات
قسط 17
اے شہیدان وطن تجھ کو سلام!
گذشتہ دنوں یہ اندوہناک خبر آئی کے لداخ کے علاقے وادی گلوان میں چینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ میں ہمارے بیس جوان شہید ہوگئے۔ پورے ملک میں رنج اور غصہ پھیل گیا۔ یہ ایک فطری رد عمل ہے۔ ہمارے فوجیوں کی عوام کے دلوں میں اتنی عزت اور اتنا احترام ہے کہ لوگوں کی گردنیں جھکی رہتی ہیں۔ بالخصوص ہمارے وہ سپاہی جو سرحدوں پر خدمت انجام دیتے ہیں ان کی عظمت کا کیا کہنا۔ وہ تو لوگوں کے دلوں کی دھرکنوں میں بستے ہیں۔
ہمالیہ کے برفانی چوٹیاں ہوں یا سرحد کی ہولناک وادیاں، جنگلات کے کانٹے دار درخت ہوں یا ریگستان کے ریتیلے ٹیلے، سمندر کی پہاڑ جیسی لہریں ہوں یا دریاؤں کی خطرناک طغیانی۔
سردی، گرمی، برسات، دھوپ، آندھی، بارش، یا موسم کی کوئی بھی نزاکت، ان تمام کو جھیلتے ہوئے مادر وطن کی حفاظت اور ترنگا کی آن بان شان کوبلند کرتے ہوئے بغیر تھکے، بغیر جھکے دن رات وطن کی خدمت میں لگے رہتے ہیں۔ وطن پر مر مٹنے کا جذبہ اور قربانی دینے کا شوق ہی ان کو اس بات پر آمادہ کیے رکھتا ہے کہ اپنے بال بچوں، اپنے ماں باپ، اپنے گھر خاندان، اپنا قبیلہ، اپنا سماج چھوڑ کر مجاہدین وطن، اور شہیدان وفا کے نشان قدم پر چلیں۔
ذرا سوچئے کہ پندرہ سے اٹھارہ ہزار فٹ کی بلندی پر جہاں درجہ حرارت منفی ڈگری ہو، جہاں آکسیجن کی بھی کمی ہو وہاں اپنا خیمہ اپنا تنبو، اپنا بنکر، بناکر ہاتھوں میں ترنگا لہراتے ہوئے دشمنوں سے لوہا لینا کیا عام بات ہے ؟ ہر گز نہیں ! بلکہ یہ وطن سے فطری محبت اور وطن پر مر مٹنے کا جذبہ ہے، جو انہیں اس مشکل راہ کا انتخاب کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ ہماری فوج کی عظمت عام ہندوستانیوں کے دلوں میں کتنی ہے اس کا اندازہ کرنے کیلئے یہ بات کافی ہے کہ اگر کوئی فوجی ہمارے سامنے آجاتا ہے یا کوئی فوجی گاڑی ہمارے سامنے سے گزرنے لگتی ہے تو ہر ہندوستانی ان کے احترام میں کھڑا ہوجاتا ہے اور جب تک اپنے فوجیوں کے بوٹوں سے اڑتا ہوا غبار نظر آتا ہے، وہ اسے ٹکٹکی لگائے دیکھتا رہتا ہے۔ اور کیوں نہ ہو! ہر مصیبت کے وقت لوگوں کی نگاہیں ان ہی کی طرف اٹھتی ہیں۔ آندھی ہویا طوفان، سیلاب، ہو یا زلزلہ یا اور بھی کوئی زمینی یا سماوی آفت۔ ہمارے جوان دیش کی خدمت کےلیے کھڑے رہتے ہیں اور لوگوں کی جان بچانے میں اپنی پوری توانائی لگادیتے ہیں ۔ نہ طوفانوں سے جھکتے ہیں ، نہ سمندروں سے خوف کھاتے ہیں ، نہ دشمنوں سے ڈرتے ہیں ، اور نہ ہی اپنے قدم پیچھے کرتے ہیں۔ سرحدوں پر دشمنوں کی گولیاں اپنے سینے پر کھانا گوار کرلیتے ہیں لیکن پشت پر نہیں۔ ہم اپنے ان تمام فوجیوں کو سلام پیش کرتے ہیں، جنہوں نے مادر وطن کی حفاظت کی خاطر چائینز دشمنوں سے لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ ہمیں یقین ہے کہ ان کی قربانی رایگاں نہیں جائے گی اور ان کے لہو کے ایک ایک قطرہ کا حساب چائینز دشمنوں سے وصول کیا جائے گا۔ دکھ اور مصیبت کی اس گھڑی میں پورا دیش ہمارے شہید جوانوں کے خاندان کے ساتھ کھڑا ہے اور غم میں شریک ہے ۔