22 اگست 2017ء بروز منگل ایک مجلس کی تین طلاق پر سپریم کورٹ کا فیصله آگیا۔ جیسی توقع قانونی ماہرین کررہے تھے تقریبا فیصله ویسا ہی آیا۔ عدالت عالیه کی پانچ رکنی بینچ کی اکثریت نے ایک مجلس کی تین طلاق کو غیر قانونی قرار دے دیا، لیکن اقلیت نے جس میں خود چیف جسٹس بھی تھے انہوںنے مسلم پرسنل لاء کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے بنیادی حقوق مان کر ایک مجلس کی تین طلاق کے مسئله میں مداخلت کرنے سے انکار کردیا۔ لیکن ساتھ میں اس پر چھ ماه کی پابندی لگاتے ہوئے حکومت کو اس پر قانون بنانے کا حکم بھی دے دیا۔ پہلے اس فیصلے کے اہم نکات ملاحظہ کریں۔
اکثریت کے فیصلے کے اہم نکات
- تین طلاق اسلام اور قرآن کا اٹوٹ حصه نہیں ہے۔
- طلاق شریعه کا حصه ہے جو قانون ہونے کی وجه سے دستور کے دائره میں آئے گا۔
- تین طلاق کو دستور کی دفعه ۲۵ کا تحفظ نہیں ملے گا یه مذہب کا حصه نہیں ہے۔
- تین طلاق بے حد من مانا ہے جس کی قانون اجازت نہیں دیتا۔
- غیر برابری کا کوئی قانون دستوری اور جمہوری طرز حکومت میں بنا نہیں ره سکتا۔
- تین طلاق شریعت کے خلاف ہے اس لئے یه قانون میں بنا نہیں ره سکتا۔
اقلیت کے فیصلے اہم نکات
- تین طلاق بھارت میں اسلام کا اٹوٹ حصه ہے۔
- یه لمبے عرصے سے رائج ہے۔
- تین طلاق قانون کی برابری اور صنفی مساوات کے حق کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
- لیکن تین طلاق پر کئی مسلم ملکوں میں پابندی ہے۔
- مرکزی سرکار تین طلاق کو ختم کرنے کیلئے چھ ماه میں قانون بنائے۔
- مسلمانوں پر چھ ماه تک کیلئے قانون بننے تک تین طلاق پر پابندی ہوگی۔
سپریم کورٹ کے فیصله کا سیدھا مطلب
- فیصلے کے دن سے اگلے چھ ماه تک کوئی مسلم مرد اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاق که کر اسے چھوڑ نہیں سکتا۔
- سرکار کو چھ ماه میں اس موضوع پر ایک قانون بنانا ہوگا جس میں مسلم تنظیموں کے تحفظات اور شریعت کاپاس و لحاظ رکھنا ہوگا۔
- اگر چھ ماه میں سرکار قانون نہیں بناتی تو تین طلاق پر پابندی آگے بھی جاری رہے گی۔
اس فیصله کے آنے پر جہاں ایک طرف عرضی کنندگان خواتین ، زعفرانی میڈیا ، آرایس ایس اور اس سے جڑی ہوئی نام نہاد مسلم تنظیمیں ، مسلم مہیلا آندولن ، مسلم راشٹریه منچ ، اور خود موجوده حکومت کے پردھان سیوک سمیت تمام منتری خوشی سے بغلیں بجارہے ہیں وہیں دوسری طرف مسلم تنظیموں بطور خاص مسلم پرسنل لاء بورڈ اور جمعیۃ علماء ہند نے محتاط رد عمل کا مظاہره کیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے اس فیصله پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے شریعت میں مداخلت قرار دیا وہیں مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اسے متضاد فیصله قرار دیتے ہوئے دس ستمبر کو عامله کی میٹنگ طلب کی ہے اور آگے کا لائحه عمل طے کرنے کا عندیه دیا ہے ۔
اٹھارہ ماه پہلے جب سے یه معامله سپریم کورٹ پہنچا تھا تب سے ہی یہ برابر سرخیوں میں چھایا چلا آرہا ہے۔ موجوده حکومت کی مداخلت نے بھی اسے خوب گرمایا اور مسلم قیادت کے جلسے جلوس نے اس پر رنگ و روغن چڑھا دیا اور پھر یوپی انتخاب میں سنگھی پارٹی نے اپنے ایجنڈا میں تین طلاق کو شامل کرکے سیاسی ہانڈی میں اسے خوب ابالا۔
قومی میڈیا میں ہفتوں اس پر بے لگام مباحثه ہوتا رہا اور سنگھی میڈیا نے تین طلاق کے ایشو کو ایسا کالا بھوت بناکر پیش کردیا گویا که ملک کی ترقی کی تمامتر رکاوٹ اسی کی وجہ سے ہے جب فیصله آگیا تو ان کی بانچھیں اس طرح کھل گئیں گویا که ان سنگھیوں کو علاء الدین کا چراغ ہاتھ لگ گیا ہو جس سے ملک کے تما مسائل یک لخت ختم ہو جائیں گے۔ اب نه کوئی سیلاب آئے گا نه ہی بھوک مری ہوگی ، نه کسان خود کشی کرے گا ، نه ہی دهشت گردی کا واقعه پیش آئے گا۔ اب نه ہی کوئی غریب بچے گا اور نه ہی کوئی فقیر۔ اب ملک تمام درپیش مسائل کا حل تلاش کرچکا ہے۔ کالا دھن بھی واپس آگیا ہے۔ پندره پندره لاکھ روپے بھی سب کو مل گئے ۔ پاکستان منه کی کھایا۔ چین کو شکست فاش مل گئی۔ چلئے جو ہونا تھا وه ہوگیا فیصله شریعت کے خلاف آگیا، سرے سے تین طلاق کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا، تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کے نزدیک خواه وه اس کو ایک مانتے ہوں یا تین عدالت عالیه کا فیصله شریعت میں مداخلت ہے ۔
اس نازک موقع پر ذرا ٹھہر کر ہمیں سوچنا چاهئے که اتنے بڑے مسئلے اور اتنی اہم قانونی لڑائی کو ہماری مذهبی اور ملی قیادت نے اس انداز سے لڑا جس انداز سے لڑنی چاہئے؟ اس کا جواب مکمل اثبات میں نهیں دیا جاسکتا۔ جس حکمت و دانائی کا مظاہره ہونا چاهئے وه کم ہو پایا۔ ہم نے اپنے پیشرو بزرگوں کی طرح شاہ بانو والے کیس کے طرز پر حکومت و عدالت سے دودوہاتھ کرنے والی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اس لڑائی کو لڑا اور اس بات پر توجه نہیں دی که اب نه وه حکومت ہے اور نه ہی وه زمانه ۔ اب تو ایسی حکومت ہے جس کے خمیر میں اسلام دشمنی ہے جسکا ادے اور عروج ہی مسلم منافرت کی مرہون منت ہے۔ اس حکومت سے جوش و خروش اور بے جا جذبات کے ذریعے ٹکرانا قومی رسوائی کا باعث بن سکتا ہے۔ موجوده وقت میں دلائل و براہین کی طاقت اور منطقی اسلوب اور بہترین تعبیرات اور حکمت و دانائی کے دامن کو تھامتے ہوئے ہر قدم کو اٹھانے کی ضرورت ہے۔ جب سپریم کورٹ نے عرضی کنندگان خواتین کی درخواست پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کو نوٹس جاری کیا اور حلف نامه داخل کرنے کا حکم دیا تو حلف نامه میں جو موقف اختیار کیا گیا وه خود متضاد موقف تھا۔ پھر عدالت عالیه میں جب شنوائی چل رہی تھی تو بھی مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نامور وکلاء اندھیرے میں تیر چلاتے رہے۔ جب ایک مجلس کی تین طلاق طلاق بدعت ہے، گناه کبیره ہے، تمام مسلم ادارے اور مسلم تنظیمیں اس رسم بد کو ختم کرنا چاهتی ہیں تو بحث بھی اسی انداز سے کرنی چاهئے اور موقف بھی ویسا ہی پیش کرنا چاهئے۔ مسلم پرسنل لا ء بورڈ کے عمل سے یہی تاثر دیا گیا که مسلم پرسنل لاء بورڈ تین طلاق کا وکیل ہے، اسے باقی رکھنا چاہتا ہے حالانکه بورڈ کا منشا ہر گز ہرگز یه نہیں تھا۔ بورڈ اگر شروع ہی میں ایک مجلس کی تین طلاق کو جرم مان لیتا اور اس جرم کو روکنے کیلئے عدالت سے استدعا کرتا که
تین طلاق ایک گھنائونا عمل ہے ہم بھی اسے روکنا چاهتے ہیں، اس کو قابل مواخذه جرم مانتے ہوئے، اس کے مرتکبین کیلئے سزا کا تعین کیا جائے، لیکن اسکے وقوع اور عدم وقوع کا فیصله عدالت از خود نه کرے بلکه ہر مکاتب فکر کے علماء اور فقہاء پر چھوڑ دے۔جو جس مسلک کا ماننے والا ہووه اپنے مسلک کے اعتبار سے اپنے علماء سے رجوع کرے اور اس مسلک کے نمائنده علماء اپنی رائے دیں که طلاق ہوئی یا نہیں۔ اگر ہوئی توایک ہوئی یا تین۔ تو ممکن تھا که عدالت عالیه سے اس سے بہتر فیصله آتا۔ میڈیا کی جنگ تو ہم پہلے ہی ہار چکے تھے، اب عدالت عالیه میں قانونی جنگ بھی ہار چکے ہیں۔
معافی کے ساتھ ہم تمام بڑی تنظیموں سے درخواست کرتے ہیں که صوبائی اور ملکی سطح کا میڈیا ہائوس ہم خود قائم کریں۔جب ہم کروڑوں روپئے بجٹ والے مدارس اور تنظیمیں چلا سکتے ہیں تو اپنا چینل کیوں قائم نہیں کرسکتے۔ ہر بڑی تنظیموں کا اپنا اپنا ترجمان ہونا چاہئے جو موجوده ماحول میں ملت کی صحیح ترجمانی ببانگ دہل کرسکے۔ بدقسمتی سے ابھی تک کسی مسلم تنظیم کی جانب سے ایسا ترجمان منظر عام پر نہیں آیا ہے جو زعفرانی ذهنیت رکھنے والے سنگھی اینکروں کو مسکت جواب دے سکے۔ ہمیں اس نظریے سے بھی سوچنا چاهئے که ایک جمہوری ملک میں کسی منتخب حکومت کا فریق بن کر اس سے ٹکرا تے رہنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہنا کیا قومی مفاد میں ہے ؟ اسی طرح کسی قانونی لڑائی کو جلسے جلوس سے لڑنا کہاں کی عقلمندی ہے؟
آرایس ایس والے اور موجوده حکمراں طبقے کے اہلکار کافی چالاکی سے ایسے مدعے اچھالتے اور ہماری طرف پھینکتے رہتے ہیں جس سے ہندو مسلم کی خلیج بڑھتی چلی جائے۔ جتنی عداوت ان دونوں میں بڑھتی ہے اتنی ہی دیرپا بھاجپا کی حکومت رہے گی، لیکن بدقسمتی سے ہم ان کے اچھالے ہوئے مدعے اور پھیلائے ہوئے جال میں یکے بعد دیگرے پھنستے ہوئے چلے جارہے ہیں۔ نتیجتاً انکی حکومت بھی مستحکم ہوتی جارہی ہے اور ہم بحیثیت ملت دن به دن کمزور سے کمزور تر ہوتے جارہے ہیں۔ تمام سیاسی پارٹیاں حکمراں پارٹی کے ڈر سے اور اکثریت کے ووٹ نه ملنے کے خوف سے ہم سے آنکھیں چرانی لگی ہیں۔
تین طلاق والے مسئله پر سب نے دیکھا که وه تمام سیکولر پارٹیاں جن کے قلی ہم بنے رہتے ہیں اس مسئله پر ہم سے کنی کتراتی رہیں۔ وہی کانگریس پارٹی جس کی حمایت حاصل کرنے کیلئے ہماری قیادت نے اس کے قد آور نیتا کپل سبل کو اپنا وکیل بنایا تھا، کیا کانگریس نے کبھی مسلم پرسنل لاء بورڈ کی اس مسئله میں حمایت کی؟ وہی کپل سبل صاحب جو ہمارے وکیل رہے انہوں نے ہمارے خلاف فیصله آنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ ایک ایسے نیتا اور وکیل کو جس کا ریکارڈ خود دوران وزارت مسلم قوم کے ساتھ مخاصمانہ رہا ہو ، خود بورڈ کے جنرل سکریٹری سے کئی مسائل پر اس سے نوک جھونک ہو چکی ہو اسے اس اہم اور نازک مسئلے پر اپنا وکیل بنانا کہاں تک مناسب تھا؟ اس کا مناسب جواب تو بورڈ ہی دے گا۔
موجوده حالات میں ہمیں یه بات اپنے اکابر سے کہنے میں نه کوئی جھجھک ہے نه خوف که مریدوں کے جھرمٹ میں نعره مستانه کے ساتھ ہم خیالی جنگ تو جیت سکتے ہیں لیکن قانونی جنگ نہیں۔ اسکے لئے حکمت و دانائی، صبر و برداشت، عزم مصم اور بروقت برمحل فیصله کی قوت چاہئے۔
مضمون نگار مدرسه عارفیه ناڑی کے استاذ اور جمعیۃعلماء ہند دربھنگہ کے نائب صدر ہیں