اب جبکه ملک کی دو اہم ریاستوں میں اسمبلی انتخاب کا بگل بج گیا ہے۔ ہندوستان سمیت پوری دنیا کی نگاه گجرات انتخاب پر مرکوز ہوگئی ہے۔ حکمراں طبقه کسی بھی صورت گجرات میں اپنی حکومت بچانا چاهتا ہے جبکه اپوزیشن یعنی کانگریس گجرات میں اپنا بن باس ختم کرنے کیلئے جدو جہد کررہی ہے۔ یوں تو گجرات میں کانگریس کے پاس کھونے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے ہاں البته کچھ پانے کے مواقع پہلے سے بہتر ضرور ہوئے ہیں ۔ گجرات کو لیکر بھاجپا میں بے چینی صاف دکھ رہی ہے اور وه اپنا وہی پرانا دائو پوری شدت کے ساتھ کھیلنے پر آماده ہوگئی ہے۔ یکے بعد دیگرے مرکزی وزرا کے بیہوده بیانات یه بتلانے کیلئے کافی ہیں که یه سب ایک منظم پلان کے تحت بولتے یا بولائے جاتے ہیں۔ تاج محل اور ٹیپوسلطان پر ان کا زبانی حمله اسی سلسله کی ایک کڑی ہے۔ یوں تو اس حکومت میں عدالتوں کے سوا تمام شعبه جات کی جمہوریت اور خود مختاری ختم ہوچکی ہے، حتی که سی بی آئی ، آئی ڈی اور دیگر خفیه ایجنسیوں کی حیثیت اس ہرکارے کی سی ہے که جسے اس کے مالک نے جب چاہا شکار پر دوڑا دیا۔ تازه معامله احمد پٹیل کو لے کر ہے۔ این آئی اے نے منصوبه بند طریقے سے گجرات سے دو جوانوں کو دہشت گردی کے مبینه الزام میں گرفتار کیا۔ جوں ہی یه خبر میڈیا میں آئی بھاجپا کے نیتائوں نے احمد پٹیل پر نشانه سادھنا شروع کردیا۔ اس کے پیچھے دراصل وه سبکی اور شرمندگی ہے جو بی جے پی کو راجیہ سبھا انتخاب کے موقع پر اٹھانی پڑی تھی اور وه کسی بھی صورت میں احمد پٹیل سے انتقام لینا چاہتی ہے چاہے اسکے لئے کچھ بھی کرنا پڑے۔
گجرات چونکه ملک کی واحد ایسی ریاست ہے جس کی اہمیت بھاجپائیوں کے نزدیک تمام ریاستوں سے بڑھ کر ہے۔ اسی ریاست کی نام نہاد ترقیات کا ڈھنڈوره پیٹ کر بھاجپا نے دہلی فتح کیا تھا اور اسی ریاست کو ماڈل قرار دیکر پورے ملک کو فرقه وارانه خطوط پر تقسیم کرتے ہوئے اقتدار پر قبضه کیاتھا۔ چونکه گجرات ماڈل کی ایک تشریح تو وه تھی جسے میڈیا اور کارپوریٹ سیکٹروں کے ذریعے نوجوانوں کو سمجھاکر للچایا گیا اور ملک کا نوجوان اس نام نهاد ترقی کے ماڈل کے تخیلاتی مندر میں سجده ریز ہوگیا اور گجرات ماڈل کی دوسری تشریح تو وه تھی اور ہے جو 2002 کے گجرات قتل عام سے عبارت ہے جس میں ہزاروں مسلمانوں کو حکومتی سرپرستی میں ته تیغ کیا گیا۔ جب بھاجپا والے گجرات ماڈل کا بکھان کرتے تھے یا اب کرتے ہیں تو برادران وطن کا متشدد طبقه اسی دوسری تشریح کو گجرات ماڈل مانتا ہے اور دنوں میں ہی وه سپنے دیکھنا شروع کردیتا ہے که بس اب وقت آگیا ہے ۔۔۔۔۔۔ لیکن حالات و واقعات صاف اشارہ دے رہے ہیں که گجرات میں تبدیلی ناگزیر ہے اور مکافات عمل کا وقت آنے ہی والا ہے۔ پٹیل برادری کی ناراضگی، ہاردک پٹیل کی بے باک قیادت، دلتوں اور پچھڑے طبقوں کی بیزاری اور حکمراں طبقے سے ان کی ناراضگی ، کسانوں اور بیوپاریوں کا بڑھتا ہوا غصه ، مهنگائی کی مارجھیلتے ہوئے عوام اور کانگریس کی قیادت کی زمینی محنت صاف اشاره دے رہی ہے که کوئی انقلاب آنے کوہے۔ اگر گجرات انتخاب میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہا تو کانگریس کی تخت واپسی ہوسکتی ہے، لیکن تھوڑی سی غفلت نتیجه پلٹ بھی سکتی ہے۔
مسلمانوں کو چاهئے که وه فرقه پرستوں کے ذریعے بچھائے گئے جالوں میں نه پھنسیں۔ خاموشی کے ساتھ اپنا کام زمینی سطح پر جاری رکھیں، جلسے جلوس سے مکمل پرہیز کریں اور کوشش کریں که اس موضوع پر ہوٹلوں، پارکوں، عوامی مقامات کی جگہوں، ریستورانوں، اور چوک چوراہوں پر خاموشی کو ترجیح دیں، حتی که جس پارٹی کو ووٹ دینی ہے اس کی ریلیوں میں بھی کم بھیڑ لگائیں ، گویا که ہر ایسے عمل سے کلی اجتناب کریں جس سے فرقه پرست طاقتوں کو زہر پھیلانے کا کوئی موقع ملے۔ کانگریس کو بھی چاہئے که عوامی مسائل سے انتخابی موضوع ہٹنے نه پائے، روزگارکے جھوٹے وعدے ، نوٹ بندی کے مضمرات ، جی اس ٹی کی بغیر تیاری کے نفاذ اور اس سے تاجروں کو ہونے والا ناقابل تلافی نقصان، کسانوں کی خودکشی، دلتوں کا استحصال ، ان کے ساته بھید بھائو، مہنگائی کی مار، وزیروں کے گھپلے اور ان جیسے عوامی مدعوں پر ہی مکمل توجه دے۔ جہاں تک ہماچل پردیش کے انتخاب کا سوال ہے مرکزی انتخاب میں اسکے نتیجوں کا کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ چونکه ہماچل کا جغرافیه، وہاں کی زبان، وہاں آب و ہوا، وہاں کی آبادی، وہاں کی مقامی تہذیب، وہاں کے مذہبی مقامات، وہاں کی کرسچن اور ناستک آبادی اور متشدد سنگھیوں کی قلت اور خود مسلمانوں کا آنٹے میں نمک کے برابر ہونا یه وه فیکٹرس اور عوامل ہیں جس سے وہاں فرقه واریت کا زہر گھولنا ناممکن ہے۔ لہٰذا کانگریس اگر وہاں جیتی تو بھی اور ہاری تو بھی 2019 کے انتخاب پر اسکا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوگا، لیکن پھر بھی ایک جمہوری ملک میں جہاں ہر ہر ووٹ کی اہمیت ہے وہاں ایک مکمل صوبه کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ کانگریس کو دونوں جگه سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔
