زنده رہنا ہے تو پیدا کیجئے شان حیات

زندگی حرکت کا نام ہے۔ اگر حرکت سکون سے بدل جائے تو اسے موت کہتے ہیں۔ یہی حال قوموں کی حیات کا بھی ہے۔ زنده قومیں اپنے اندر شعور حیات رکھتی ہے۔ وه ہر خطرے کا مقابله کرنے کیلئے سینه سپر رہتی ہے۔ وه اپنے اور اپنی نسلوں کے وجود کی بقا کی خاطر ہر عمل تندہی سے انجام دیتی ہے۔ اگر کسی قوم سے اس کا شعور حیات چھن جائے تو وه حالات کے رحم و کرم پر جینے کو اپنا وطیره بنالیتی ہے۔ نتیجه میں حوادثات کے تھپیڑے اسے خش و خاشاک کی طرح بہا کر قصه پارینه بنا دیتے ہیں۔ بحیثیت قوم ہمیں اس عنوان سے بھی سوچنا چاہئے۔ 
تاریخ ہمیں بتاتی ہے که صلیبی جنگ کے بعد بحیثیت ملت ہمارا شعور حیات ختم ہوتا چلا گیا ۔ ہماری حریف قومیں جو ہمه گیر ضلالت میں گھری ہوئی تھیں، یکایک ان کے اندر بیداری پیدا ہوئی پھر وه دنیا کے نقشے پر اس طرح ابھرے که اب تک وه دنیا کی سیادت و قیادت کررہے ہیں۔ سائنس ، طب ، معیشت ، سیاست ، حکمت ، فلسفه ، تاریخ ، ادب اور لیٹریچر کی دنیا میں انہوں نے اپنا جھنڈا تو گاڑا ہی ساتھ میں ہم پر اس طرح شکنجه کسا که ہم عقل و خرد کے اعتبار سے غلام ابن غلام بن کر رہ گئے۔ ہمارا ایمانی ، اسلامی ، سیاسی اور اقتصادی شعور اس طرح چھن گیا جس طرح کسی ضعیف العمر آدمی کا حواس مختل ہوجاتا ہے اور وہ لا شعوری کی دنیا میں ایک زنده لاش بن جاتا ہے۔ اس کے گھر والے اس کی موت کے ایام گننے لگتے ہیں۔ جس طرح کسی فرد پر بڑھاپا آجاتا ہے تو وه ختم نہیں ہوتا ٹھیک اسی طرح قوموں اور سلطنتوں پر بھی بڑھاپا طاری ہوتا ہے جو اسے موت کے گھاٹ ہی اتار دیتا ہے۔ ان الهرم اذا نزل بدوله لایرتفع (ابن خلدون )
 قرون اولی، دور صحابه، تابعین، تبع تابعین کو چھوڑ کر قرون وسطیٰ کا اگر جائزه لیں تو آپ پائیں گے که ملت تمامتر خرابیوں کے باوجود شان حیات رکھتی تھی۔ یہی وجه ہے که اگر یه ایک جگه زندگی کے میدان میں پچھڑتی تو دوسری جگه پوری توانائی کے ساته نمودار ہوتی، اور حالت یه تھی که  ؎
جہاں میں مرد مومن صورت خورشیدجیتے ہیں 
ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر نکلے ادھر ڈوبے 
امت کی چوده سو ساله تاریخ میں ایک دور ایسا بھی آیا تھا که تاتاریوں نے سلطنت اسلامیه کو گھوڑوں کے ٹاپوں سے روند دیا تھا اور مسلمانوں کے کھوپڑیوں کے مینار قائم کرکے اپنا علم بلند کیا تھا۔ اس وقت بھی بحیثیت قوم ،مسلمانوں نے حالات کے آگے سر نہیں جھکایا۔ ٹھیک جس وقت بغداد کو تاراج کیا جارہا تھا، اسی وقت افریقه و اندلس اور برصغیر پر اسلامی پرچم آن بان شان کے ساتھ لہرا رہا تھا۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب مسلمانوں نے انگرائی لی اور سرزمین مصر میں تاتاریوں کو شکست فاش دی اور دینی دعوت کے ذریعه اپنے آفاقی پیغام کے ساتھ تاتاریوں کو تسخیر کرلیا۔ 
ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانوں سے 
لیکن صلیبی جنگوں کے بعد اور بطور خاص انقلاب فرانس اور یوروپ کی نشاۃ ثانیه کے بعد ہمارے اندر جو وہن آیا وه ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ ہمارا شعور ختم ہوگیا۔ ہم نے داعیانه کردار چھوڑ دیا، اخلاق و کردار سے ہم عاری ہوگئے، تعلیم و تعلم جو ہمارا مشن تھا اس سے ہم نے ہاتھ دھولیا،دنیا کی سیادت و قیادت سے ہم کناره کش ہوگئے، ہمارا ایمانی اسلامی اور سیاسی شعور ختم ہوگیا۔ نتیجے سامنے ہیں چھ دہائیاں گزر جاتی ہیں لیکن کسی مسلم ملک اور مسلم قوم سے خوش کن خبر نہیں آتی ہے۔ قنوطیت و مایوسی کی ایک دبیز چادر ہمارے چہروں پر چھائی ہوئی ہے جبکه خدا کا فرمان ہے۔ ’’لاتقنطوا‘‘۔  اس عظیم خدائی پیغام کے ہوتے ہوئے ہم مایوسی کے شکار ہوجائیں المیه نہیں تو اور کیا ہے۔ جاپان ایک ایٹم بم کے صدمے سے نکل گیا اور اس نے حیاتی میدان میں اتنی بڑی جست لگائی که آج ٹیکنالوجی میں اس کے ہم پله کوئی قوم نہیں۔ لیکن ہم کئی کئی ملکوں کے کھونے ، لاکھوں افراد کے ته تیغ ہونے ، کروڑوں بچوں کے یتیم ہوجانے کے باوجود اس ترقی یافته دور میں ایک بھیڑ اور کیڑے مکوڑے کی طرح زندگی گزاریں اور جس معاشره کے لوگ ہمیں بھیڑ  بکری کی طرح ذبح کرتے ہوں اسی سے زندگی کی بھیک مانگیں۔ فیاللعجب 
آج پوری دنیا کے جدید ہتھیاروں کے ہم لیب بن چکے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے ہم پر مادر آف آل بم امریکه نے گرایا اور اب چنددن پہلے فادر آف آل بم روس نے ہم پر گرایا، جس کی تباہی اور ہلاکت خیزی کسی ایٹم بم سے کم نہیں۔ تمام قسم کے جدید ہتھیاروں کا تجربه انسان نما درندوں نے ہم پر کرلیا اور ہم ہیں که ہم اس کبرے کی طرح بن رہے ہیں جو اپنی صحت یابی کی دعا نہیں کرتا بلکه وه چاہتا ہے که سب انسان کبرے ہوجائیں۔ دور مت جائیے اپنے مادر وطن میں دیکھئے که کیا عملا ہم دوسرے درجه کے شہری نہیں بنادیئے گئے۔ ہم نے اپنی اور اپنے نسلوں کی بقا کیلئے کون سے کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں؟ آزادی سے پہلے بھی ہمارا نه کوئی قومی پلان تھا اور نه آزادی کے بعد کوئی مشن لیکر ہم آگے بڑھے۔ بلکه بے مقصد ، بے ہنگم ، بے سیاست ، بے قیادت ، اور بے فراست ہم صرف حالات کے رحم و کرم پر جی رہے ہیں۔ 
وه تو خدائی وعده ہے که وه اس دین کو قیامت تک باقی رکھے گا، جس کی وجه سے اس دین کے حاملین بھی قیامت تک باقی رہیں گے۔ اگر یه خدائی وعده نہیں ہوتا تو بحیثیت قوم ہم کب کا مٹا دیئے گئے ہوتے، کیونکہ ہم نے اپنی بقا کا کوئی سامان اب تک پیدا نہیں کیا ہے۔ 
آر ایس ایس کے لوگوں نے لگاتار ایک مشن کے تحت اس ملک میں محنت کی۔ آج انکا پسندیده نتیجه سامنے ہے که وه ملک کی انتظامیه، مقننه اور عدلیه تک میں دخیل ہوگئے لیکن ہم صرف اور صرف جلسے جلوس اور تجویزیں پاس کرنے میں اپنی ساری توانائی لگائی اور نه سیاسی اعتبار سے مضبوط ہوئے اور نه ہی اقتصادی اعتبار سے۔ اگر کم سے کم اقتصادی طور پر محنت کئے ہوتے تو اس کا نتیجه سامنے ضرور آتا۔ 
ملت افسرده سے که دے کوئی میرا پیام 
زنده رہنا ہے تو پیداکیجئے شان حیات