قتل تو قتل ہے چاہے وه سرکاری سرپرستی میں ہو یا کسی گروه اور تنظیم کی سرپرستی میں۔ناحق قتل کرنے والی چاہے کوئی حکومت ہو چاہے کوئی فرد اور جماعت وہ بالیقین دہشت گردی ہے۔ بوسینیا کا قتل عام، افغانستاں ، عراق ، لیبیا ، مصر اور اب برما کا قتل عام یه سب نسل کشی اور انسانی المیه نہیں تو اور کیا ہے؟ گذشته کئی دہائیوں سے برما میں جو انسانی بحران پیدا ہوا ہے وه تاریخ انسانی کے ان المیوں میں سے ایک ہے جسکے سامنے چنگیزو هلاکو بھی شرمنده ہیں۔ وه برما جہاں کی اکثریت بدھسٹوں کی ہے جنکا بنیادی اور مذہبی فلسفه ہی عدم تشدد ہےگوتم بدھ کی تمام تر تعلیمات اسی اهنسا اور عدم تشدد پر مبنی ہے۔جن کے نزدیک کسی بھی قسم کے جاندار کو مارنا پاپ ہے ، جنکے نزدیک مکتی اور نجات نفسانی مشقتوں کو جھیلنے اور برداشت کرنے سے ہی ملتی ہے۔اگر کوئی نجات کا طالب ہے تو وه اپنے آپ پر سختی کرے، اپنے جسم کو جتنی مشقت میں ڈالے گا اتنا ہی اسکو روحانی سکون ملے گا۔اسی گوتم بدھ کی آخری وصیت اور نصیحت نبی اکرم ﷺ کی پیشین گوئی سے متعلق ہے جس کو مولانا سید مناظر احسن گیلانی رحمۃ الله علیه نے اپنی کتاب (النبی الخاتم ) میں نقل کیا ہے اور تجزیه پیش کیا ہے
بیان کیا جاتا ہے که جب گوتم بدھ کا آخری وقت آیا تو ان کا شاگرد نندا اپنے گرو کے قدموں میں بیٹھا ہوا آنسوؤں سے ان کے چرنوں کو بھگورہا تها اور پوچھ رہا تھا که ’’سرکار ! اب آپ کے جانے کے بعد دنیا کو گیان کون دے گا۔‘‘ گوتم بدھ نے اس کے جواب میں فرمایا که ، نندا ! نه میں پہلا بودھ ہوں نه آخری۔ میرے بعد سب سے آخر میں ایک بدھ آئے گا جو مبارک اور منور القلوب ہوگا پوری دنیا کو گیان سے بھر دے گا۔نندا نے پوچھاکه سرکار اس کا نام کیا ہوگا ؟ بدھ نے جواب دیا که وه ’’متریا‘‘ کے نام سے منسوب ہوگا۔اسی متریا کا ترجمه بدھسٹ محققین نے محمد صلی الله علیه وسلم سےکیا ہے۔(النبی الخاتم )
آج اسی گوتم بودھ کے ماننے والے دنیا کے سب سے خونخوار گروه بن گئے اور ان کے راہب اور بھکشووں نے دہشت گردی اور درندگی کی ساری حدیں پار کردیں۔ فساد اور جنگ و جدال دنیا کے اور خطوںمیں بھی ہوتے ہیں لیکن بدھشٹوں نے جو اپنی مذہبی درندگی کا مظاہره کیا ہے وه چنگیزو ہلاکو کو بھی شرمانے والا ہے۔ ایک طرف ان کی پانچ لاکھ کی فوج ہے اور ان کے ساتھ ہزاروں خونخوار بھکشو درندے ہیں، دوسری طرف بے یار و مددگار، لاچار اور مجبور و بے بس بوڑھے بچے، جوان عورتیں ہیں، جن کو صحیح سے ایک لاٹھی بھی میسر نہیں۔ ان کو بے دردی سے قتل کرنا ان کو ذبح کرنا، ان کے چمڑے چھیلنا، زنده آگ میں جلادینا، لگتا ہے که ابھی بودھسٹوں اور بھکشووں کا سب سے محبوب اور ان کے بھگوان کے یهاں سب سے مقبول عمل مسلمانوں کا قتل ہے ،صرف اور صرف قتل۔
برماکے درندوں نے اپنی درندگی سے تمام بدھ مت کے پیروکاروں پر سوالیه نشان قائم کردیا ہے که آیا وه اسی بدھ کے متبعین ہیں جنہوں نے عدم تشدد کا فلسفه دنیا کو پڑھایا یا ان شیطانی بدھسٹوں کے پیروکار ہیں جو لگاتار برما میں اپنے متبعین کو مسلمانوں کے قتل پر آماده کرتے ہوئے پورے ملک میں دندنا رہے ہیں۔کیوں دلائی لامه ، آنگ سان سوکی ، جاپان ، چائنا ، تھائی لینڈ اور ہندوستان کے بدھسٹ اس قتل عام پر خاموش ہیں۔ کیا ان کی خاموشی یه بتلانے کیلئے کافی نہیں ہے که بدھسٹوں نے بحیثیت قوم اپنے مذہب سے انحراف بلکه بغاوت کرلیا ہے۔سچ فرمایا الله تبارک و تعالی نے اپنے پاک کلام میں که ’’اے مخاطب تم سب سے زیاده اور سخت دشمن اپنا اور ایمان والوں کا ان لوگوں کو پائوگے جو یہود ہیں اور ان لوگوں کو پائوگے جو مشرکین ہیں ، اور محبت و مودت کے اعتبار سے اپنے قریب تم نصاری کو پاسکتے ہو ( سوره مائده آیت 81 )
ہرزمانے میں اور بطور خاص موجوده زمانے میں مذہبی اعتبار سے مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن یہود ہی ہیں۔ اسرائیل کو جو مسلمانوں اور اسلام سے ازلی دشمنی ہے وه کسی سے مخفی نہیں اور اسرائیل سے قریب جو بھی ملک ہے وه سب بھی اسلام دشمنی میں اس کے شریک ہے اور دوسرے نمبر پہ مشرکین ہیں۔ بطور خاص جنہوں نے شرکیه دھرم کا ٹھیکه لے رکھا ہے۔ جیسے که ملک کے برہمن اسی طرح لمبے لمبے مجسمے کو پوجنے والے بدھسٹ بھی اسی مشرکین کے گروه میں ہیں جن کو خدا تعالی نے مسلمانوں کا دوسرا دشمن قرار دیا ہے۔لیکن نصاری کو ازلی دشمن نہیں بتایا نتیجه میں آپ دیکھتے ہیں که اسرائیلی دهشت گردی کے خلاف سب سے زیاده آواز اگر کہیں سے بلند ہوتی ہے تو وه نصاری کا ملک ہوتا ہے۔ برما میں بدھشٹوں کی درندگی پر اکثر عیسائی دنیا سے مذمتی بیان آئے حتی که پوپ بنڈیکٹ نے بھی اس خوفناک درندگی کی مذمت کی
لیکن ! مشرکین کے سورما اب تک خاموش ہیں۔ دلائی لامه خاموش ہیں ، پردھان سیوک برما سے پکنک مناکر آگئے لیکن ایک لفظ بھی مظلوموں کے تعلق سے ارشاد نہیں فرمایا۔ بڑے بڑے منادر کے بڑے بڑے مہنت سکوت میں مبتلا ہیں اور آرایس ایس کی تو بنیاد ہی مسلم دشمنی پر ہے بھلا اس کے سرسنگھ چالک سے کیسے کسی ہمدردی کی توقع کی جاسکتی ہے۔
ہماری مجرمانه غفلت نے بھی ہم کو کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔ ہمارا حال یه ہے که آپس میں ہم سب ایک دوسرے کے تعلق سے بڑے سخت ہیں اور غیروں کے لئے انتہائی نرم حالانکه اس کا الٹا ہونا چاهئے۔ آپس میں رحم دل اور غیروں کیلئے سخت جیسا که قرآن نے کہا ہے۔ اگر صرف چار پانچ اسلامی ممالک ایک متحده پلان بناکر عمل کریں تو انشاء الله بڑے سے بڑے مسائل حل ہو جائیں گے۔ ترکی، ایران، پاکستان، سعودیه اور ملیشیا یه پانچ مسلم ممالک ہی ایک ہوکر امت کے تعلق سے فکرمندی دکھائیں اور کچھ کریں تو ممکن ہے که ملت بے یارومددگار اور لاچار نه بننے پائے۔
