گوری کا قتل جمہوریت کا قتل ہے


گذشته رات ملک کی ممتاز ترقی پسند خاتون صحافی گوری لنکیش کو نامعلوم دہشت گردوں نے انکے گهر میں گهس کر گولی ماردی جس سے وه موقع پر ہی ہلاک ہوگئیں   انکی شہادت کی خبر جیسے ہی عام ہوئ ویسے ہی پورے ملک
میں آواز اٹهنے لگی اور دیکهتے ہی دیکهتے صحافی برادری سڑکوں پر نکل آئ اور صحافیوں نے اس اندوهناک قتل کے خلاف جم کر بهراس نکالی  
پچهلے چند سالوں سے دیکها یه جارہاہے که چن چن کر ایسے قلمکاروں اور صحافیوں کو نشانه بنایا جاتا ہے جو بے باک لکهتے اور بولتے ہوں
جب سے مرکز کی یه سرکار بنی ہے تب سے درجنوں ایسے  صحافی اور قلمکار ہیں جنکو بے دردری سے قتل کردیا گیا ہے
قتل کا یه واقعه  چاہے کرناٹک میں ہو چاہے بمبئ اور دیگر صوبوں میں قتل تو قتل ہے
لیکن سوال یه اٹهتا ہے که صرف ترقی پسند صحافیوں اور کمیونسٹ یا شوشلشٹ قلمکاروں کو ہی چن چن کر کیوں نشانه بنایا جارہا ہے ؟
وه جنونی  زعفرانی صحافی یا ایسے قلمکار جو دن رات ہندو مسلم فساد کرانےیا ہر مسئله کو ہندو بنام مسلم بناکر  سامعین و ناظرین اور قارئین کو گمراہ کرنے کی کوششیں لگاتار کرتے رہتے ہیں وه سب ایسے حمله کے شکار کیوں نہیں ہوتے ؟
یه کوئ اتفاقی بات نہیں ہے بلکه یه ایک منظم خفیه پلان کا حصه ہے که ایسی آوازوں کو دبا دو جسمیں بهگتی شامل نه ہو
جب حکومتی سطح پر بهی ایسے ایسے کام کئے جارہے  ہوں  جس سے انده بهگتوں اور زعفرانی جنونیوں   کا حوصله بڑه ہی رہا ہو تو یکے بعد دیگرے ایسے قابل مذمت واقعات پیش آتے ہی رہے نگے
کچه دن پہلے سب نے دیکها که ان ڈی ٹی وی کی ایک خاتون اینکر نے جب قابل مذمت رویه اختیار کرنے کی وجه سے بهاجپا کے سب سے لڑاکو ترجمان سمبیت پاترا کو اپنے شو سے بهگا دیا تها - تو اسکے کل ہوکر ہی سرکار نے ان ڈی ٹی وی کے مالک کے گهر پر ہی سی بی آئ کا چهاپه مروادیا
اسی طرح جب کانگریس ایم ایل ایز کو کچه دنوں پہلےبنگلور لے جایا گیا تو انکے میزبان کے گهر پرہی سی بی آئ کا ریڈ مروادیا گیا
اس طرح کی اور بهی کئ مثالیں ایسی ہیں که اقتدار کوجب اقتدار کا بهوک لگ جاتا ہے  تو ہٹلر شاہی جنم لیتی ہے اور ہٹلر شاہی نام ہی ہے اپنے سیاسی ، سماجی ، اور  نظریاتی مخالفین کے قتل اور انکی آواز کو خاموش کردینے کا
جب حکومت ہی  انتقامی سیاست کرے گی اور رواداری اور اخوت و بهائ چارگائ کو گالی سمجه کر کبهی اس ضمن میں لب کشائ کرنے کی بهی ہمت نہیں کرے گی تو بهلا اس کی شه پر پالے جانے والے دهشت گرد بهگتوں کی فوج کیا اپنے بهگوان مخالفین کو بخشے گی ؟ قطعا نہیں
گوری کا قتل کوئ معمولی واقعه نہیں ہے ، بلکه یه حکومت وقت کے دوہرے چہرے سے نقاب الٹ دینے والا ہے که
موجوده وقت میں معمولی معمولی باتوں پر ٹوئٹ کرنے والا ، تمام قسم کی شیخی بگهاڑنے والا ، باتوں باتوں میں جذباتی ہونے والا ، بیٹی بڑهائو بیٹی پڑهائو کا منتر جپنے والا ، نام نہاد مسلم عورتوں کو مساوات دلانے کی قسمیں کهانے والا ، لال قلعه کی فصیل سے عورتوں کے حقوق پر لفاظی کرنے والا ، پردهان سیوک  ایک خاتون صحافی کے قتل پر اتنا خاموش ؟
چلئے اگر ذکیه جعفری کو انصاف نہیں مل سکا تو کوئ بات نہیں وه کانگریس نیتا کی بیوه ہے ، نجیب کی ماں کو انصاف نہیں ملا چلئے کوئ بات نہیں وه ایک مسلمان خاتون ہے ،  لیکن کیا گوری کے اہل خانه کو انصاف مل پائے گا ؟ ممکن ہے که پردهان سیوک اس پر اپنی چپی توڑے نگے اور گوری کے  اہل خانه کو انصاف دلاسکے نگے -
 ہم تو پردهان سیوک سے یہی امید کرتے ہیں  لیکن جب پردهان سیوک کے  قلمی مصاحبین اور انکے موبائلی بگهتوں بلکه انکے  موبائلی سنتوں میں ایک نام ایسا بهی ہو جو اس جانباز سپوت اور عظیم خاتوں صحافی کو کتے سے تشبیه دے تو بهلا یه توقع کوئ کیسے کرستاہےکه  بهگتوں اور انده سنتوں کی ٹولی کے پردهان سیوک   گوری کے ایل خانه کے ساته کهڑے ہوکر قاتلین کو کیفر کردار تک پہونچائے نگے ؟
اس باب میں سدارامیا کی حکومت بهی ناقص رہی ہے
اگر کرناٹک کی موجوده حکومت کلبرگی قتل کی گتهی کو سلجها لیتی اور قاتلین کو کیفر کردار تک پہونچوادیتی تو یقینا اس طرح کا واقعه پیش نہیں آتا  
ایک دستوری اور جمہوری ملک میں سیاسی اور نظریاتی مخالفین کا یکے بعد دیگرے اس طرح قتل کردیا جانا  اور قاتلین کا قانون کی گرفت سے بچے رہنا اور دائیں بازو کے  موبائلی سینا کا دشنام طرازی کرنا  یه بتلاتاہے که قاتلوں نے صرف چند صحافیوں کوہی قتل نہیں کیا ہے بلکه انہوں نے اس ملک کی جمہوریت کو قتل کرنے کی کوشش کی ہے
لکن جس طرح رات کے بعد صبح آتی ہے اسی طرح اس ملک میں بهی انشاء الله  دیر سویر سماجواد اور سیکولر واد اور ترقی پسندی کا سورج    طلوع ہوگا  اور ملک کی جمہوری فضاء اور جمہور پانی بهگتوں اور بهگوانوں کو خش و خاشاک کی طرح بهاکر قصه پارینه بنادے گا